گیت نمبر ۹۷
 

1

اَے چھوٹے شہر بَیت لَحم تُو کیسا ہے خاموش

آسمان پر تارے روشن ہیں تُو خواب میں ہے مدہوش

پر تےرے تارِیک کُوچوں میں اِک نُور ہے نُمودار

قدیم زمانوں کی اُمید آج تُجھ میں ہے آشکار

2

فِرشتے اُس کے جنم کا اِعلان اَب کرتے ہیں

خُدا کی حمد اور صلح کا وہ گِیت سُناتے ہیں

مسیح مولُود ہے مریم سے اِنسان تُو اَب مت سو

سب آءو مل کر دیکھو تم عجیب محبت کو

3

خاموشی میں اِک بیش بہا بخشش ہے نُمودار

آسمانی برکتوں کا اَب ہر دل میں ہے اِظہار

ہر عاجز رُوح میں اَے خُدا تو داخل ہوتا ہے

اور تائب گنہگار کو بھی قبول تُو کرتا ہے

4

اَے بچے پاک معصوم ! تُجھ سے دُعا مانگتے ہیں

جب ہم بھی سب تکلیفوں میں تجھ کو پُکارتے ہیں

جب کہ محبت اور اِیمان دروازہ کھولتے ہیں

تب تےری پاک پیدائش کا ہم جلوہ دیکھتے ہیں

5

اَے بَیت لَحم کے بچے پاک ہمارے دِل میں آ

فروتن دل میں پیدا ہو نیک دلی کر عطا

پیغام فرشتے دیتے ہیں خُدا سے ہوا میل

آاور ہم میں سکونت کر تُو اَے عمانوایل

Scroll to Top