گیت نمبر ۹۱
کورس
خالق مُجسم ہوا ہے،مالک مُجسم ہوا ہے
دیکھو چرنی میں نُور خُدا ہے
1

بیت الحم کی فضائیں کیوں نہ ناچیں کیوں نہ گائیں
ظلمت تھی چاند آگیا ہے،دیکھو چرنی میں نُورِخُدا
2

چھوڑ کر عرش فرش پہ آگیا راہِ زندگی ہمیں دِکھاگیا
مرض گناہ کی دوا ہے،دیکھو چرنی میں نُورِخُدا ہے
3

بوجھ سے دبے ہوئے آزاد ہوں مغموم دِل آج شادہوں
بے کس کا وہ آسرا ہے، دیکھو چرنی میں نُورِخدا ہے
4

سینا پہ جو ہوئی تھی عیاں مریم کی گود میں ہے ضوفشاں
یہی وہ اَزلی ضیا ہے، دیکھو چرنی میں نُورِخُدا ہے

Scroll to Top