گیت ۸۲
1
مُنجی عالمیاں آج جنم لیتے ہیں
سرورِ کون و مکاں آج جنم لیتے ہیں
2
مژدہ اے اہل جہاں رُشد و و ہدایت کے لئے
رہبر پیر و جواں آج جنم لیتے ہیں
3
جن کے در کے ہیں گدا تاجورانِ عالم
وہ شہنشاہ ِ زماں آج جنم لیتے ہیں
4
جن کی تعریف و ثنا گاتے ہیں قُدسی دیکھو
بطنِ مریم سے وہ ہاں آج جنم لیتے ہیں
5
جن کی گُفتار حسں شہد سے بھی میٹھی ہے
وہی اعجازِ بیاں آج جنم لیتے ہیں
6
دونوں عالم کے مکیں شاد ہیں مسرور بھی ہیں
کہ شبِہ ہر دو جہاں آج جنم لیتے ہیں
7
اَب کہو کون سا عُقدہ رہا باقی اے تاک
کاشِف رازِ نہاں آج جنم لیتے ہیں
==============
عالمیاں: عالمی کی جمع جس کے معنی دُنیا کا ہیں
مژدہ:خُوشخبری
رُشدہ وہدایت: راہنمائی
تاجورانِ عالم: دُنیا کے بادشاہ
اعجازِ بیاں:کلام کا معجزہ
عُقدہ:پوشیدہ بات،راز،بھید