گیت نمبر۴۴
1
خُدایا کیا ہی پُر جلال
ہے اور تیری شان
یہ قدرت تیری ہے بے حد
اور حکمت بے پایان
2
مَیں تیرے پاس زندہ خُدا
آتا ہوں زاری سے
عِبادت تیری کرتا ہوں
عجز اور خاکساری سے
3
گرچہ عظیم ہے تیری شان
بُلند آسمانوں سے
تُو بھی تو مُجھ سے پُوچھتا
کیا پیار تُو کرتا ہے
4
تیری محبت بے نظیر
پیار تیرا اعلیٰ ہے
ماں باپ کے پیار سے بڑھ کر
تُو اُلفت والا ہے
5
یُسوع کے باپ کریم خُدا
کِیا ہو گی وہ بہار
جب تخت کے سامنے سجدہ کر
میں کروں گا دیدار