گیت نمبر ۳
کورس
سُولی اُٹھا کے  اپنی  سرکار  ہم  چلیں  گے
بھیجے گاجس طرف بھی سو بار ہم چلیں گے
1

حلقہ بگوش ایماں قوموں  کو   ہم کریں  گے
حدیں پھلانگ کر بھی اُس پار ہم چلیں  گے
2

نقشِ  قدم  کریں  گے  پولُس  کے  تلاش
پُر خطر راستوں کے طلب گار ہم چلیں گے
3

تیری صلیب صدقے سب  عاصیوں کی  خبر
بالائے طاق رکھ  کے  افکار  ہم  چلیں  گے
4

کیسے بھی ہوں کنول اب ایمان کے مراحل
لٹکی ہو گر سروں  پہ تلوار  ہم  چلیں  گے

Scroll to Top