گیت نمبر ۱۹۸
1

آرزو مجھ کو مسیحا ہے تیرے دیدار کی
جان عاشق ہے تیری شرینی گُفتا ر کی
2

نام تیرا زِندگی ہے ذات تیری ہے حیات
زِندگی مُردوں کی تُو اور ہے شفا بیمار کی
3

اَے خُداوند مسیح ہے تُو ہی رَبّ العالمیں
قدرت حق ہے تُو ہی صورت ہے تُو ستار کی
4

اِبن آدم اِبن مریم اور ہے اِبن خُدا
عقل ہے حیران اِس میں عاقل و ہُشیار کی
5

آسماں کے بھید تُو لے کشف عالم ہر کئے
مدح کرتا ہوں میں ہر دم کاشف الاسرار کی
6

برکتیں دونوں جہاں کی ہم کو حاصل ہو گئیں
مدح خوانی ہم کریں کونین کے مُختار کی
7

جنگ کرتے ہیں شاطیں تیرے بندوں سے یسُوع
ہے ضرورت ہم کو تیری رُوح کی تلوار کی
8

دافع درد و الم اَے رافع رنج و محن
ہے شفا بیمار کی تُو اور دوا آزاد کی
9

اَے مریضوں کی دوا اَے حامی درماندگاں
جلد لے آ کر خبر اِس بندہ بیمار کی

Scroll to Top