گیت نمبر ۱۴۹
1
وہ پیاری صلیب مجھ کو دکھائی پڑتی تھی
ایک پہاڑی پر جو کھڑی تھی
کہ مسیح مصلوب نے ندامت اُٹھا
گُنہگاروں کی خاطر جان دی
کورس
پس نہ چھوڑوں گا پیاری صلیب
جب تک دُنیا میں ہو گا قیام
لپٹ رہوں گا میں اُسی سے
کہ مصلوب میں ہے ابدی آرام
2
آہ وہ پیاری صلیب جس کی ہوتی تحقیر
ہے مجھ کو بے حد دِل پذیر
کہ خُدا کے محبوب اُس جلالی مسیح
نے اذیت سہی بے نظیر
3
مجھے پیاری صلیب میں گو لہو لہان
نظر آتی ہے خوبصورتی
کہ خُدا کے مسیح نے کفارہ دیا
تا کہ مجھ کو ملے زندگی
4
میں اُس پیاری صلیب کا رہوں وفادار
سپاہی ہمیشہ ضرور
جب تک میرا مسیح نہ کرے گا مجھے
اپنے اَبدی جلال میں منظور