گیت نمبر ۴۰۲
کورس
دُنیا کی بھیڑ میں کیوں کھورہا،
مِلے گا کچھ بھی نہ پھل جو بورہا
تُو آجا گھر لوٹ آ،آبیٹے گھر لوٹ آ
1

میں ڈھونڈوں اُس بھیڑ کو جو کھو گئی
گُناہوں کی جیل میں بند ہو گئی
تُو آجا گھر لوٹ آ،آبیٹے گھر لوٹ آ
2

گناہوں میں تھا اَب تلک تُو جو دھنسا
مکڑی کے جال میں تھا جو پھنسا
تُو آجا گھر لوٹ آ،آبیٹے گھر لوٹ آ
3

تُو آنکھیں اب کھو ل کر سب جانچ لے
تُو سّچ اور جھوٹ کو اَب ماپ لے
تُو آجا گھر لوٹ آ،آبیٹے گھر لوٹ آ

Scroll to Top