گیت نمبر ۳۸۶
تُو جو چھُو جائے اِس مٹی کو یہ مٹی کُندن ہو جائے
کُمہار بنے جس برتن کا وہ برتن درپن ہو جائے
1

طوفانوں کی ہستی ہے کیا جب زندہ چٹان پہ ہوں آنکھیں
انگور کے پیڑ سے پیوستہ ہر ڈالی ساؤن ہو جائے
2

تیرے لخت جگر نے پاک خُدا بخت اِنسان بدل ڈالا
ایمان جو لائے یسُوع پر امبر کی دھڑکن ہو جائے
3

دُنیا چھوڑے،چھوڑے ساتھی مٹی کا کھلونا ہے اِنسان
جب ہاتھ میں ہاتھ ہو یسُوع کا تو موت بھی جیون ہو جائے

Scroll to Top