گیت نمبر ۳۲۳
عہد کریں عہد کریں
روشنیوں کا عہد کریں
پیار کریں پیا ر کریں
دُکھی جہاں سے پیار کریں
1

پیاسی زمیں ہے پیاسا گگن
امرت جل کی سب کو لگن
پیاسے جگ کو شانت کریں
2

دُکھ ساگر میں ناؤ نہ ڈولے
نیا نہ کھائے ہچکولے
پربھو سندیس کا دریس کریں
3

طوفا ن گرجے آندھی آئے
ہر سو گھور اندھیرے چھائے
اَمن کے دیپک بن کے چلیں
4

نفرت کی دیوار گرائیں
رَبّ کے ہم بیٹے کہلائیں
صلح کے جھنڈے گاڑتے چلیں

Scroll to Top