گیت نمبر ۳۰۴
جھومے زمیں آسماں
آج ہر بشر ہے شادماں
اِبن خُدا ہے جی اُٹھا
ہر طرف خُوشی کا ہے سماں
1

زندگی کا باب کھول کر
غالب ہوا ہے موت پر
اَب نہیں ہمیں فنا کا ڈر
ظلمتوں کا مٹ گیا نشاں
2

مُونس و حبیب جی اُٹھا
فاتح صلیب جی اُٹھا
حق کا وہ نقیب جی اُٹھا
جی اُٹھا مسیح مہربا ں
3

ہر طرف بکھر گئی خُوشی
مِل گیا پیام مخلصی
عاصیوں کی بات بن گئی
جی اُٹھا شفیع عاصیا ں

Scroll to Top