گیت نمبر ۱۹۹
غم زدہ مُسکرانے کے دن آگئے
گیت خوشیوں کے گانے کے دن آگئے
1

جس نے خون مُقدس سے دِی زندگی
جس کے مصلوب ہونے راحت ملی
جی اُٹھا ہے بتانے کے دِن آگئے
2

عاصیوں کے لیے جاں تصدق کئے
کلوری پر جَلا کر لہو کے دیئے
ظلمتوں کو مٹانے کے دِن آگئے
3

موت کا جس کی ہر طور سامان تھا
جی اُٹھا جس طرح اُس کا اعلان تھا
سب کو مُژدہ سُنانے کے دِن آگئے
4

رکھ لیا اُس نے سب کی خطا کا بھرم
نسل اِنساں پہ کٹھلتا ہے باب کرم
دل سے خوشیاں منانے کے دن آ گئے ب

Scroll to Top