گیت نمبر ۱۹۶
1

دِل جس نے مسیح کو دیا ہی نہیں وہ پریم کی ریت کو کیا جانے
دُکھ درد نہیں دُکھیوں کا جسے وہ سچی پریت کو کیا جانے
2

جو جان کی بازی کھیلا ہے اُسے دہر کا عشق جھمیلا ہے
جو پریم کی وادی میں گُم ہے وہ ہار اور جیت کو کیا جانے
3

یتیم کی نہ جس نے سُنی بانی کی دَہر میں جس نے مَن مانی
اَمرت رَس اُس نے چکھا ہی نہیں وہ پریم اور پیت کو کیا جانے
4

مصلوب ہوا جو سب کیلئے ہم اُس کی پریت سے شاد ہوئے
جو میت ہے اپنے مطلب کا کوئی ایسے میت کو کیا جانے
5

اَن دیکھے خُدا سے ہے پریم مجھے میری شان و تزک کی خبر ہے کیسے
جس گیت کو میں گا تا ہوں رَسا اُس گیت کو دُنیا کیا جانے

Scroll to Top