گیت نمبر ۱۹۳
1

آج روشن اِس جہا ں میں اِک ستارہ ہو گیا
نُور سے جس کے منور دِل ہمارا ہو گیا
2

مُدتوں سے جس کی آمد کے رہے تھے مُنتظر
آج وہ ہی شاہ عالم آشکارا ہو گیا
3

دِل کو جس کی آرزو تھی آج وہ پیدا ہوا
مالک ہر دو جہاں کا اَب نظارہ ہو گیا
4

چہچہاتے باغ میں ہیں آج مُر غا ن چمن
آ گیا ہے باغباں گلشن ہزارہ ہو گیا
5

بے خطر اَب ہو مسیحی کُچھ نہیں خو ف و خطر
دامِ عصیاں اَب لعیں کا پارہ پارہ ہو گیا

Scroll to Top